واشنگٹن،7اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکی انٹیلی جنس اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت نے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کی بڑی مقدار چھپا رکھی ہے جسے وقفے وقفے سے استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کے ایک سینیر عہدیدارنے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ اسد رجیم نے سنہ 2013ء میں جس کیمیائی اسلحے کو عالمی اداروں کے حوالے کرنے کا معاہدہ کیا تھا اس اسلحیکا ایک بڑا حصہ چھپا رکھا ہے۔
امریکی انٹیلی جنس عہدیدار کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ آیا شام نے اپنے ہاں ذخیرہ کردہ تمام کیمیائی ہتھیار عالمی معائنہ کاروں کو فراہم کیے تھے یا نہیں۔اسد رجیم کی طرف سے سنہ دو ہزار تیرہ کے بعد بھی شہریوں کو خوف زدہ کرنے کے لییان پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کیے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسد رجیم نے مہلک کیمیائی ہتھیار چھپا رکھے ہیں۔کیمیائی ہتھیارں پر پابندی کے ذمہ دار ادارے نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے ادلب شہر میں گذشتہ منگل کے روز ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اگر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خان الشیخون میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسد رجیم کے پاس اب بھی کیمیائی ہتھیارموجود ہیں۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے شامی حکومت سے بھی رابطہ کرکے معلومات کے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔